آپ، تم، تو — کون سا درجہ
انگریزی کا ‘you’ درجہ نہیں بتاتا؛ اردو میں یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ ڈاکٹر، Centrelink افسر، وکیل یا پولیس کی بات ‘تم’ میں ڈھالنا انداز کی سنگین غلطی سمجھی جاتی ہے، اور فعل بھی ساتھ بدلتا ہے: ‘آپ بیٹھیں’ بمقابلہ ‘تم بیٹھو’۔ ایک درجہ چنیں اور پورے ڈائیلاگ میں نبھائیں۔ الٹی سمت میں احتیاط دوسری ہے: ‘ڈاکٹر صاحب’ کا انگریزی میں مطلب ‘Doctor’ ہے، ‘respected doctor sir’ نہیں، اور ‘sir’ جوڑنا اضافہ گنا جاتا ہے۔
فعل آخر میں آتا ہے، اور حصہ لمبا ہوتا ہے
اردو کا فعل جملے کے آخر میں بیٹھتا ہے، انگریزی کا بیچ میں۔ ‘If you do not pay the fine within 28 days, your licence may be suspended’ جیسے حصے میں شرط پہلے اور نتیجہ بعد میں لانا پڑتا ہے، اس لیے جو امیدوار انگریزی کی ترتیب پر جملہ شروع کر دے وہ بیچ میں پھنستا ہے اور کچھ نہ کچھ چھوڑ دیتا ہے۔ سرکاری انگریزی کے مجہول جملے (‘Your application has been assessed’) بھی یہیں بھاری پڑتے ہیں: انہیں ‘جائزہ لیا جا چکا ہے’ کی ساخت میں رکھیں، اپنی طرف سے فاعل ایجاد نہ کریں۔
لاکھ، کروڑ اور ‘twice a week’
انگریزی کا 150,000 ڈالر اردو میں ‘ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر’ بنتا ہے، اور اردو کا ‘پانچ لاکھ’ انگریزی میں five hundred thousand؛ ہندسوں کی گروپنگ ہی بدل جاتی ہے۔ اردو کے 1 سے 100 تک کے عدد بے قاعدہ ہیں (49 انچاس، 79 اناسی) اور دباؤ میں یہی ہچکچاہٹ کھڑی کرتے ہیں۔ تعدد پر الگ نظر رکھیں: ‘twice a week’ کو ‘دن میں دو بار’ کہہ دینا مطلب بدل دیتا ہے، اور Centrelink کے ‘fortnight’ کا مطلب ‘ہر دو ہفتے’ ہے، ‘ہر ہفتے’ نہیں۔ نوٹس میں عدد ہمیشہ ہندسوں (0-9) میں لکھیں۔
پہلے شخص میں بولنا، اور صنف کی گردان
ترجمان مقرر بن کر بولتا ہے، اس لیے مرد امیدوار کو خاتون کلائنٹ کی بات ‘میں کل کلینک گئی تھی’ کہنی پڑتی ہے۔ اپنی صنف کی گردان لگا دیں تو مطلب بدل جاتا ہے، اور یہ کٹوتی میں آتا ہے۔ ‘وہ کہہ رہی ہیں کہ...’ والی عادت بھی جلد چھوڑ دیں؛ CCL میں ترجمانی پہلے شخص میں ہوتی ہے، تیسرے میں نہیں۔
انگریزی لفظ کہاں تک چل جاتا ہے
NAATI کی شائع کردہ CCL لینگویج پالیسی اردو کے لیے انگریزی الفاظ کے محدود استعمال کو مناسب کہتی ہے، بشرطیکہ آسٹریلیا میں اردو بولنے والوں کی اکثریت انہیں آسانی سے سمجھ لے یا اردو میں درست متبادل موجود نہ ہو (NAATI CCL language policy)۔ پالیسی کی اپنی مثالیں school، operation اور gas bill ہیں، اور ‘اپوائنٹمنٹ’ یا ‘انشورنس’ بھی اسی دائرے میں آتے ہیں۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب ‘معاوضہ’ یا ‘معاہدہ’ یاد نہ آنے پر جملہ ہی انگریزی میں پلٹ جائے، یا ‘بلک بلنگ’ کو ‘مفت علاج’ کہہ دیا جائے۔ موضوع وار فہرست ووکیبلری صفحے پر ہے۔